ماں کی دعا
رحمت ایک غریب مگر محنتی نوجوان تھا۔ اس کا باپ بچپن میں ہی دنیا سے رخصت ہو چکا تھا، اور اس کی ماں نے بڑی مشقت سے اسے پالا تھا۔ غربت کے باوجود رحمت کی ماں نے اسے ایمانداری، صبر اور شکر کا درس دیا تھا۔ وہ ہمیشہ اپنے بیٹے کے لیے دعاگو رہتی کہ اللہ اسے عزت اور کامیابی عطا کرے۔ رحمت روزانہ مزدوری کے لیے شہر جاتا اور جو کچھ کماتا، وہ لا کر اپنی ماں کے ہاتھ میں رکھ دیتا۔ ماں بھی سادہ زندگی بسر کرتی اور ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتی۔ وہ اکثر اپنے بیٹے سے کہتی، "بیٹا! حلال کمائی میں برکت ہوتی ہے، چاہے تھوڑی ہو یا زیادہ۔ کبھی کسی کا حق نہ کھانا اور ہمیشہ سچائی اور ایمانداری سے کام لینا۔" آزمائش کا وقت ایک دن، کام کے دوران رحمت کا سامان چوری ہو گیا۔ اس کے پاس جو تھوڑے بہت پیسے تھے، وہ بھی ختم ہو گئے۔ کئی دن تک اسے کوئی مزدوری نہ ملی۔ غربت کی چکی میں پہلے ہی پس رہے تھے، اب فاقے کی نوبت آ گئی۔ ماں نے اپنے حصے کی روٹی بھی رحمت کے لیے رکھ دی، مگر رحمت جانتا تھا کہ ماں خود بھی بھوکی ہے۔ اس نے مایوس ہو کر کہا، "ماں! شاید ہماری تقدیر میں یہی لکھا ہے...